صحیح بخاری کا صدیوں کا سفر
-
مجالس املا
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سولہ سال میں اپنی کتاب ''صحیح'' مرتب کی، اُنہوں نے اس کا انتخاب چھ لاکھ احادیث میں سے کیا، جن کو انہوں نے اپنے اور اللہ کے درمیان حجت کا ذریعہ بنایا، انہوں نے صحیح بخاری کی ابتداء ان املاء کی مجلسوں سے کی جو امام بخاریؒ کےزمانہ میں منعقدہوتی تھیں اور یہ سلسلہ ہمارے اس دور تک مسلسل جاری ہے۔
-
مخطوطہ نسخے
صحیح بخاری نے قلیل مدت میں بڑی مقبولیت حاصل کرلی یہاں تک کہ اہل علم نے اس کے مطالعہ اور علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا، ایسا بھی ہوا کہ بعض علماء نے اس کے مختلف ورژن پر مکمل عبور حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی یہاں تک کہ ان میں سے کچھ نسخہ جات (Version) ان مصنفین کے ناموں سے مشہور ہوئے، جیسے امام ابو الحسن الصنعانی کا نسخہ، اور امام شرف الدین الیونینی کا نسخہ۔
-
صحیح بخاری کی طباعت
پرنٹنگ پریس کی ایجاد اور طباعت کی ابتداء نے اس عظیم کتاب کی طرف بھی لوگوں کی توجہ مبذول کرائی تاکہ اس کے ذریعہ لوگ وافر مقدار میں استفادہ کرسکیں، اس کی طباعت کی شروعات سب سے پہلے نیدرلینڈ کے شہر لیڈن میں ہوئی پھر اس کی طباعت انڈیا کے شہر ممبئی میں ہوئی۔ جس کے بعد اس کے مختلف ایڈیشن پھیلتے چلے گئے، تاہم اس کے ایڈیشنوں میں سب سے مشہور ''سلطانی ایڈیشن ''ہے جس کی طباعت کا حکم سلطان عبدالحمید ثانی نے دیا تھا۔
-
انسائیکلوپیڈیاصحیح بخاری
علوم و معارف کے پھیلنے اور تمام علوم میں ٹیکنالوجی کے داخل ہونے کے بعد یہ بات ضروری ہو گئی تھی کہ صحیح البخاری بھی اپنے شایانِ شان مقام حاصل کرے۔ ایک ایسا منفرد کام انجام ديا جائےجو امت کی دلچسپی کا باعث بن سکے چنانچہ یہی وہ منفرد انسائیکلوپیڈیا تھا جس نے اس بابرکت کتاب کے بارے میں محققین کی بہت سی امیدوں اور آرزوؤں کو پورا کرنے میں پیش قدمی کی۔
انسائیکلوپیڈیا صحیح البخاری
پہلا انسائیکلوپیڈیا جو صحیح بخاری کے روایات جوامع علوم شروحات کو ایک ویب سائٹ میں جمع کرتا ہے۔
۔جمہور مسلمانوں کے ہاں صحیح البخاری کا کیا مقام و مرتبہ ہے یہ کسی بھی باشعور انسان سے مخفی نہیں ہے۔اس کی اہمیت اس کے متعلق لکھی جانے والی نہایت مفید کتابوں سے بھی اجاگر ہوتی ہے، کسی میں اس کے الفاظ کی تحقیق ہے، کسی میں سندوں پر بحث کی گئی ہے،کسی میں احادیث کی تشریح کی گئی ہے، کسی میں غریب الفاظ اور مبہم باتوں کی وضاحت ہے، یہاں تک کہ اس کے کسی علمی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔ اس انسائیکلوپیڈیاکا مقصد ان بابرکت کوششوں کو ایک جگہ پر جمع کرنا اور تفسیر، حدیث، فقہ اور زبان کی مختلف علمی مہارتوں کے محققین اور اسکالرز کے لیےآسانی پیدا کرنا ہے، چونکہ یہ ظاہر ہے کہ “صحیح البخاری“ کو ان سب علوم کا مرجع سمجھا جاتا ہے، اس لیےکہ اس میں مطبوعہ اور مخطوطہ دونوں طرح کے مآخذ اور مراجع شامل کیے گئے ہیں جو “صحیح“ کے ساتھ ایک تکنیکی اسلوب کے طور پر مربوط کر دئیے گئے ہیں، اس انسائیکلوپیڈیا میں موجود تصنیفات اور جدید سہولتوں کے باعث محققین کے لیے الصحیح کی دقیق ترین تفصیلات تک پہنچنا آسان ہو گیا ہے۔ اس میں جو کچھ جمع کیا گیا ہے اس کے ذریعے وہ ایک اہم پہلو کو اجاگر کرنے میں کامیاب رہی جس سے خدا نے اس امت کو نوازا ہے اور وہ اہم پہلو، سنت نبویؐ کی حفاظت کرنے اوراس کو نسل در نسل منتقل کرنے میں دقّتِ نظر سے کام لیناہے۔
خدمات اور خصوصیات
انسائیکلوپیڈیاکے متون کی تصدیق
انسائیکلوپیڈیا میں درج کتابوں کا ان کے اصل مخطوطات کے ساتھ اچھی طرح موازنہ کیا گیا ہے،نیز ان کتابوں کو ان کے مخطوطات کے ساتھ بھی مربوط کر دیا گیا ہے۔ یہ سہولت آٹومیٹک اور دائمی طور پر میسر ہے۔
انسائیکلو پیڈیا کی کتابوں کاصحیح بخاری سے ربط
انسائیکلو پیڈیا کی کتابوں میں ایسی جگہیں جن میں صحیح بخاری کی حدیث کا ذکر ہے ان کو بھی صحیح کے متن کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، تاکہ محقق ان کتب میں کسی زائد بات یا روایات کے لفظی ا
صحیح بخاری کی روایتیں اور نسخہ جات
اس انسائیکلوپیڈیا میں الجامع الصحیح کے نادر خطی اور مشہور نسخے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان مشہور نسخوں کو الصحیح کے متن سے مربوط کیا گیا ہے اور حافظ یونینی کے نسخے سے تقابل کیا گیا ہے۔
غیر مطبوعہ مراجع
یہ انسائیکلو پیڈیا غیر مطبوعہ مصادر ومراجع کے درجنوں عنوانات لگانے کے اعتبار سے اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے یہ نور پہلی دفعہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کی جلدوں کی تعداد ایک سو پچاس جلدوں سے تجاوز کر گئی ہے۔
خصوصی فونٹ ٹیمپلیٹس
ہم نے خصوصی فونٹس ڈیزائن کیے ہیں جو ان جدید اصطلاحات کو محفوظ رکھتے ہیں جو محدثین اپنے نسخہ جات میں استعمال کرتے تھے، جیسےقوسین، تصحیح، ضرب اور اعراب اور تلفظ کی مختلف صورتیں وغیرہ، اور مقصد اس سے ان کے ضبط واتقان اور کمال علمی مہارت کو منظر عام پر لانا ہے۔
قیمتی تحریری اثاثے
اس انسائیکلوپیڈیا میں بہت سے ہاتھ سے لکھے ہوئے نہایت قیمتی اصول بھی شامل کیے گئے ہیں جو مولفین نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں، یا اُن کے ہاں پڑھے گئے یا اُن کے قریبی زمانے میں لکھے گئے۔
















